احساس آمدن

_______________________________

احساس آمدن پروگرام کے بارے میں جانیے

حکومت پاکستان کی احساس حکمت عملی کا ایک لازمی جزو

احساس آمدن حکومت کا غریب عوام کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

احساس آمدن اثاثہ جات کی منتقلی کا پروگرام ہے جس کا بنیادی مقصد ذریعہ معاش اور ملازمت کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

آمدن پروگرام کے تحت مستحق افراد کو اثاثے فراہم کئے جاتے ہیں تاکہ وہ غربت سے باہر نکل سکیں۔ اس پروگرام کے تحت منتقل کیے جانے والے اثاثہ جات میں مویشی (بکریاں، گائے، بھینسیں اور پولٹری)، زرعی آلات، چنگچی رکشہ باڈی،چھوٹے دوکانداروں اور چھوٹے کاروباری اداروں کیلئے آلات شامل ہیں۔

اس پروگرام کا بجٹ 15 ارب روپے ہے۔


عملدرآمدی نظام

احساس آمدن پروگرام پر عملدرآمد منتخب کردہ اضلاع میں مقامی شراکتی اداروں کے ذریعےجاری ہے۔ گاؤں اور دیہات کی سطح پر کمیونٹی ادارے پہلے سے موجود ہیں۔ایک بار جب اثاثہ کی قسم کی نشاندہی ہو جائے تو، مقامی گاؤں کی سطح کی تنظیم،شراکتی ادارے کے تعاون سے مقامی طور پر اثاثے خریدتی ہے اوران کو گھرانوں میں تقسیم کرتی ہے۔ خریداری کے عمل میں شفافیت، تمام اثاثوں اور پیشہ ورانہ مہارت تربیت کی شناخت، انتخاب اور خریداری کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ وہ مستحقین جن کو پیشہ ورانہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے انہیں مستند تربیتی اداروں کے ذریعے پیش کردہ کورسز میں شرکت کیلئے مدد کی جاتی ہے۔ اہل گھرانوں کے افراد کو اثاثوں کے استعمال اور کاروباری منصوبہ بندی سے متعلق تربیت فراہم کی جاتی ہے۔

پروگرام کے اہداف

متوقع مستحقین کی تعداداحساس آمدن پروگرام پاکستان کے چاروں صوبوں میں 23غریب ترین اضلاع کی 375دیہی یونین کونسلوں میں شروع کیا گیا ہے۔

اہداف

200,000 گھرانے پیداواری اثاثے یا پیشہ وارانہ مہارت حاصل کریں گے۔

60 فیصد مستحقین خواتین ہوں گی۔

30 فیصد مستحقین نوجوان ہوں گے۔

221,926 بلاسود قرضے فراہم کئے جائیں گے۔


کیا اثاثہ جات منتقلی کےمستحقین احساس بلاسود قرضے حاصل کرسکتے ہیں؟
آمدن پروگرام کے مستحقین احساس بلاسود قرضے حاصل کرسکتے ہیں اگر وہ اس علاقے میں دستیاب ہوں اور انہیں یقین ہو کہ کاروبار میں اضافے کیلئے انہیں مالی معاونت کی ضرورت ہے۔


پروگرام کی ٹائم لائنز

چار سالہ پروگرام پر عملدرآمد کا آغاز فروری 2020 میں ہوچکا ہے۔